top of page

Love
Ammar Attique
Poetry
نظمگلابی ہونٹ، ہنس کے بولیں،
،
سانولی صورت پہ چاند اترے،تو جیسے پھول کِھلے صبا می
ں
تیری آنکھیں دو دیے دعا میں۔
زلفیں بکھریں جو شام ڈھلے،
ل کی دھڑکن بھی گا جائے۔
قدتو رات بھی شرمیلی ہو جائے،
تیری چوڑیاں شرنگ کھنکیں،
تو
دم اٹھیں تو گھنگرو بولیں،
ہوا بھی تیرے پیچھے دوڑے،
سانولی سلونی سی محبوبہ،
تجھ سے یہ جہاں رنگ جوڑے۔
لاتے ہیںمیں لکھوں تیری تعریف کہاں تک،
لفظ بھی کم پڑ جاتے ہیں،
تو خود اک نظم ہے، اک غزل ہے،
Share to :
bottom of page